جمعہ 2 جنوری 2026 - 11:20
نئے سال کے موقع پر ترکیہ میں غزہ کی حمایت میں عظیم الشان مارچ؛ ترک فٹبالرز اور کلبز بھی میدان میں آگئے

حوزہ/ سالِ نو کے آغاز پر ترکیہ میں فلسطین اور غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بڑی عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جسے ترکیہ کے ممتاز فٹبال کلبز اور معروف فٹبالرز کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ یہ مارچ استنبول میں فلسطین میں جاری قتلِ عام اور نسل کشی کے خلاف احتجاج کے طور پر منعقد ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سالِ نو کے آغاز پر ترکیہ میں فلسطین اور غزہ کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بڑی عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جسے ترکیہ کے ممتاز فٹبال کلبز اور معروف فٹبالرز کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔ یہ مارچ استنبول میں فلسطین میں جاری قتلِ عام اور نسل کشی کے خلاف احتجاج کے طور پر منعقد ہوا۔

گالاتاسرائے کلب کے سربراہ دورسون اوزبک نے غزہ میں پیش آنے والے واقعات کو ’’انسانیت کے ضمیر کا امتحان‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا: ’’ہم اس خاموشی کے عادی نہیں ہوں گے۔ یکم جنوری کی صبح ہم گالاتا پل پر ہوں گے تاکہ مظلوموں کی آواز بن سکیں۔‘‘

اسی طرح ترابزون اسپور کلب کے نمائندے ارطغرول دوغان نے بھی شائقین سے اس مارچ میں شرکت کی اپیل کی اور کہا کہ ’’یہ اجتماع محض ایک ریلی نہیں بلکہ ایک باوقار اور بااصول مؤقف کی علامت ہے‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا اہتمام نیشنل ول پلیٹ فارم کی جانب سے کیا گیا ہے۔

بشیکتاش کلب سے وابستہ سردار عدلی نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا: ’’فلسطین میں خونریزی اب تک نہیں رکی، ہمیں غزہ میں تشدد اور نسل کشی کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔‘‘

ترکیہ کی سپر لیگ کے دیگر کلبوں، جن میں فنرباغچہ، باشاک شہیر، قونیہ اسپور، کایسری اسپور اور غازی عنتب ایف کے شامل ہیں، نے بھی سوشل میڈیا پر بیانات جاری کرتے ہوئے اس احتجاجی مارچ کی حمایت کا اعلان کیا۔

ترکیہ میں ہونے والا یہ مظاہرہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اب بھی امتِ مسلمہ اور آزاد ضمیر رکھنے والے انسانوں کے لیے ایک زندہ اور فیصلہ کن مسئلہ بنا ہوا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha